پامال زمین

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - [ ادب ]  ایسے ردیف اور قوافی جن میں کثرت سے شعر کہے گئے ہوں۔ "ایسی پامال اور سنگلاخ زمینوں میں اب بھی ایسے ایسے پھولنے پھلنے والے موجود ہیں۔"      ( ١٨٩٣ء، مکاتیب امیر، ١٨١ )

اشتقاق

اصلاً فارسی ترکیب ہے۔ فارسی اسم 'پا' کے ساتھ فارسی مصدر 'مالیدن' سے اسم صفت 'مال' ملنے سے مرکب 'پامال' بطور صفت کے ساتھ فارسی ہی سے اسم جامد 'زمین' بطور موصوف ملنے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٨٩٣ء کو "مکاتیب امیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ادب ]  ایسے ردیف اور قوافی جن میں کثرت سے شعر کہے گئے ہوں۔ "ایسی پامال اور سنگلاخ زمینوں میں اب بھی ایسے ایسے پھولنے پھلنے والے موجود ہیں۔"      ( ١٨٩٣ء، مکاتیب امیر، ١٨١ )

جنس: مؤنث